جتنے کھوکھلے وعدے کرنے ہیں سب کیجئے،لیکن قیمتوں کی تخفیف پرتاریخ بھی بتادیئے
پارلیمنٹ میں مہنگائی پربرسے راہل گاندھی ،کہا، اب ہرگھرمیں نیانعرہ چلاہے’ارہرمودی‘
نئی دہلی، 28؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بڑھتی ہوئی مہنگائی پرمرکزکی این ڈی اے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آج لوک سبھامیں وزیراعظم نریندرمودی سے سوال کیاکہ مودی جی ایوان کوبتادیجئے کہ مہنگائی کب کم ہوگی۔ آپ اسٹارٹ اپ،اسٹینڈ اپ، چاہے جومرضی شروع کیجئے ،جتنے مرضی کھوکھلی وعدے کیجئے،لیکن ایوان کو ایک ایسی تاریخ بتادیجئے،جب دال کی قیمتیں کم ہوجائیں گے۔ٹماٹر کے دام کم ہو جائیں گے۔کانگریس نائب صدر نے کہاکہ میں وزیر اعظم جی کو ان کے ایک وعدے کے بارے میں یاد دلانا چاہتا ہوں جسے وہ بھول گئے ہیں۔16؍فروری 2014کو ہماچل پردیش کے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان مودی جی نے کہا تھاکہ ملک کے سامنے مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے، غریب کے گھر چولہا نہیں جلتا، ماں بچے رات رات بھرروتے ہیں اور آنسو پی کرسوتے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے2014میں کہا تھا کہ بی جے پی اقتدار میں آئی تو مہنگائی کو روکیں گے۔راہل گاندھی نے کہا کہ دو مہینہ پہلے این ڈی اے حکومت نے اقتدار کے دو سال کا جشن منایا۔ممبئی سے بالی ووڈ ستاروں کو مدعوکیا گیا۔اس تقریب میں وزیر اعظم نے سوچھ بھارت کے بارے میں بولا، میک ان انڈیا کے بارے میں بولا، لیکن پوری تقریب میں اس بارے میں ایک لفظ نہیں بولا کہ مہنگائی کب کم ہوگی۔انہوں نے اس بارے میں ایک لفظ نہیں کہا کہ دال، آلو، ٹماٹر کی قیمتیں کب کم ہوں گی ۔انہوں نے کہاکہ ملک کی عوام کے سامنے مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اور انہوں نے اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
راہل گاندھی نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مئی 2014میں ٹماٹر کی قیمت 18روپے تھی جو آج 55روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اسی طرح اس وقت چنا دال 50روپے کی تھی اور آج یہ 110روپے کی فروخت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کسان کو ملنے والی اس کے فصل کی قیمت اور مارکیٹ سے اس کی خریداری میں 25روپے کا فرق تھا لیکن آج یہ فرق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔کسانوں کی خود کشی کرنے کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ این ڈی اے نے کم از کم امدادی قیمت میں جو اضافہ کیا ہے اس سے کسان کو فائدہ 50روپے کا ہوتا ہے لیکن اسے 180روپے کی دال خریدنی پڑتی ہے۔یو پی اے اور این ڈی اے کے دور حکومت میں کسان کے سامنے یہ 130روپے کا فرق ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں نریندر مودی نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ مجھے وزیر اعظم مت بنائیں، میں چوکیدار بننا چاہتا ہوں،لیکن اب یہی چوکیدار تحویل اراضی بل کے سلسلے میں تین بار آرڈیننس جاری کر چکا ہے اور دال کی چوری اس سے روکی نہیں جا رہی ہے ۔کانگریس نائب صدر نے کہا کہ یو پی اے حکومت کے وقت عالمی تیل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 110ڈالر فی بیرل تھیں اور اس وقت کی حکومت نے کسانوں کے 70ہزار کروڑ روپے کا قرضہ معاف کیاتھا۔2016میں تیل کی قیمت 44ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے اور حکومت نے خود کہا ہے کہ حکومت نے اس سے دو لاکھ کروڑروپے بچائے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے صنعت کاروں کے 52ہزار کروڑ روپے کے قرضے معاف کردیئے لیکن کسانوں کے کتنے قرضے معاف کئے گئے؟۔ ایک عام گھریلو خاتون کو اس سے کتنا فائدہ ہوا؟ ۔راہل گاندھی نے مودی حکومت پر کسانوں اور مزدوروں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کسانوں ، مزدوروں کو نہیں بھولناچاہیے ۔انہوں نے ’ہر ہر مودی، گھر گھر مودی‘کے نعرے کا بالواسطہ ذکر کرتے ہوئے طنز کیا اور کہاکہ آج گاؤں گاؤں،قصبے قصبے میں ایک نعرہ چل رہا ہے،اور وہ نعرہ ہے کہ ’ارہر مودی، ارہر مودی‘۔